الٰہ آباد کے ایک “ایٹ ہوم” میں اکبر

الٰہ آباد کے ایک “ایٹ ہوم” میں اکبر بھی اپنی دیسی وضع میں شریک تھے اور ان کے ایک دوست بھی۔ جو سر سے پاؤں تک انگریزی دور غلامی کی نشانی ہیٹ، سوٹ، بوٹ، لیکن کریہہ النظر ایسے کہ انگریز تو انگریز شاید بن مانس بھی اس لباس میں کچھ جچ جائے۔ مگر ان پر کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ اکبر نے پورا قطعہ کہہ دیا ان پر:
ہر چند کہ کوٹ بھی ہے پتلون بھی ہے
بنگلہ بھی ہے، پاٹ بھی ہے، صابون بھی ہے
لیکن میں یہ پوچھتا ہوں تجھ سے ہندی
یورپ کا تری رگوں میں کچھ خون بھی ہے

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button